مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ

آج صبح بعد نماز فجر (جس وقت میں مفتی تقی عثمانی صاحب کا معمول تسبیحات کا ہے اور آپ عفی اللہ عنہ اس وقت میں ملاقات نہیں فرماتے ہیں) ایک شخص آیا اور مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم سے ملنے کے لیے اسرار کرنے لگا۔

جب اسے منع کیا گیا اور بتایا گیا کہ مفتی  صاحب دامت برکاتہم سے اس وقت ملاقات نہیں ہوسکتی ہے  اور ملاقات کے لیے آپ کو دفتر آنا پڑے گا تو اس نے بہانا بنایا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں اور میری دونوں بیویاں مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔

اس شخص کا یہ بھی اسرار تھا کہ وہ مفتی صاحب سے اکیلے میں ملنا چاہتا ہے اور وہ ان سے دعا کرانے آیا ہے۔ملاقات کی اجازت ملنے کے بعد جس وقت وہ مفتی صاحب دامت برکاتہم کے پاس جانے لگا تو اس نے جیب سے ایک چاقو نکال کر اپنے کندھے پر لٹکے ہوئے بیگ میں ڈالا ،اسکی یہ کاروائی کچھ دور کھڑے مفتی صاحب دامت برکاتہم کے گارڈ کی نظر میں آگئی اور اس نے بروقت اس شخص کو آگے بڑھ کر دبوچ لیا۔

ملزم کو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دارالعلوم کراچی کے اپنے گارڈز نے تفتیش کے لیے حراست میں رکھا ہوا ہے۔

واقعہ میں مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم  اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے بلکل محفوظ رہے اور حضرت دامت برکاتہم کو اس واقعہ کے فوراً بعد ہی گھر روانہ کردیا گیا۔

مفتی زبیر صاحب

معروف مذہبی اسکالر مفتی زبیر صاحب کا اس واقع کے بارے میں اظہار افسوس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم سب اس وقت شدید ذہنی اضطراب،ذہنی تشویش اور شدید قسم کی ذہنی وقلبی تکلیف و اذیت کا ایک بار پھر شکار ہو چکے ہیں۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت اس وقت امت مسلمہ اور عالم اسلام  کا متاع گنج گراں  مایا ہیں ،اثاثہ اور سرمایہ ہیں  اور امت اس طرح کے کسی بھی  حادثہ کی متحمل  نہیں ہوسکتی ۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ  وقت کا اور پاکستانیت کا تقاضہ یہی ہے کہ حضرت کی حفاظت کے حوالے سے حکومت حساسیت سے کام لے اور حضرت کی سیکیورٹی کو اور زیادہ محفوظ بنایا جائے۔

اس واقعہ سے دنیا بھر میں حضرت دامت برکاتہم کے چاہنے والے لاکھوں لوگ سکتے کی سی کیفیت میں آگئے ہیں۔

ایس ایس پی کورنگی شاہ جہاں کا کہنا ہے کہ ملزم کے قبضے سے چاقو برآمد کرلیا گیا ہے اور ملزم سے  تفتیش کی جارہی ہے۔انکا یہ   بھی کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم جو کہ گلستان جوہر کا رہائشی ہے وہ  ذہنی طور پر   شدید خلفشار کا شکار ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button