امریکی چینل سے وضاحت طلب

آزادی اظہار رائے  کے دعوے دار  امریکی میڈیا نے اپنے ہی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا انٹرویو سنسر کردیا، بھارت میں مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی اور جنسی ہراسانی کے بارے میں  من پسند حصہ نشر کیا اور باقی سنسر کردیا۔

حکومت پاکستان نے امریکی چینل ایچ بی او سے وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو کے ایک حصے کوسنسرکرنے کی وضاحت طلب کرلی ہے۔

ذرائع سے حاصل شدہ  تفصیلات کے مطابق پی پی ونگ کی جانب سے امریکی چینل ایچ بی او انتظامیہ کو  ایک خط لکھا گیا ہے جس میں بھارتی ہندوتوا سوچ پر وزیر اعظم کے انٹرویو کی سنسرشپ پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔

معاون خصوصی برائے سیاسی تعلقات شہباز گل نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خط میں پوچھا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے انٹرویو سے ہندوستان میں رائج ہندوتوا  پالیسی کے بارے میں بیان کیوں خارج کیا گیا؟ ایچ بی او انتظامیہ کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے پاس انٹرویو کا مکمل ریکارڈ ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ وزیر اعظم بنے تو انہوں نے امن کے لئے ہندوستانی وزیر اعظم کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

لیکن بھارت نے2019 میں یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کردی۔تاہم اب جب تک بھارت 5 اگست کے اقدامات واپس نہیں لے لیتا تب تک بات چیت ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محض قومی دفاع کے لئے ہے ، انہیں امن کی ضرورت ہے ، اب وہ کسی بھی محاذ آرائی کا حصہ بننا نہیں چاہتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button