اشرف خان صحرائی , جیل میں انتقال کرگئے

تحریک حریت کے چیئرمین اور سید علی گیلانی کے تاحیات معاون محمد اشرف خان عرف صحرائی جموں کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے جہاں وہ گذشتہ سال سے حراست میں تھے۔

کشمیری پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ میں محمد اشرف صحرائی کو 12 جولائی 2020 کو جموں کی ادھم پور جیل منتقل کیا گیا تھا، ان کی حالت جیل میں خراب ہوگئی تھی اور انہیں کل جموں کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی موت ہوگئی۔

صحرائی متعدد بیماریوں میں مبتلا تھے اور انھیں قید کے دوران کوئی علاج فراہم نہیں کیا گیا تھا،انکے اہل خانہ کو ان کی صحت کی حالت سے لاعلم رکھا گیا تھا،ان کی عمر قریب 80 سال تھی۔

جیل میں ان کی حالت بگڑ گئی ، لیکن انہیں بروقت کسی ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی گئی اور صرف کل ہی انہیں جموں کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی موت ہوگئی ۔

پاکستان نے اشرف خان صحرائی کی موت پر غم کا اظہار کیا ہے، پاکستانی حکومت نے کشمیری رہنما کی ہلاکت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس پر شدید غم ہے۔

ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ، وزیر اعظم نے لکھا ، "کشمیری رہنما اشرف صحرائی کے غیرقانونی ہندوستانی تحویل میں وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہوں، بھارت کا کشمیریوں پر ظلم وبربریت معاشرے کے اجتماعی ضمیر پر ایک دھبہ ہے، ہم کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے ،اقوام متحدہ کے کونسلوں کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کریں گے۔

Back to top button