جوہر ٹاؤن دھماکہ کیس میں گرفتاری

جوہر ٹاؤن دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی موٹر وے سے لاہور میں داخل ہوئی اور لاہور میں داخل ہونے کے بعد اس میں بارودی مواد رکھا گیا۔

گاڑی 6 بار فروخت ہوئی ہے اور آخری بار ڈیوڈ پال نامی  شخص نے مبینہ دہشتگرد کو یہ گاڑی فروخت کی،دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی 21 جون کو موٹر وے  کے راستے لاہور میں  داخل ہوئی  اور اسے 21 جون کوہی صبح پونے 10 بجے بابو صابو ناکے پر تلاشی کے لیے روکا گیا تھا۔

تاہم دستاویزات کی جانچ کے بعد گاڑی کو روانہ کردیا گیا  ،اسی بات کو مد نظر  رکھتے ہوئے ناکے پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ) کے مطابق گاڑی میں دھماکہ خیز مواد لاہور میں داخل ہونے کے بعد رکھا گیا ،بارودی مواد فراہم کرنے والے سہولت کار کی تلاش جاری ہے۔

سی ٹی ڈی نے کاروائی کے دوران مختلف شہروں میں  چھاپے مارے اور چھاپوں کے  دوران  سی ٹی ڈی نے لاہور سے 3 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا۔

گاڑی کا مالک

گاڑی کے مالک کو حساس ادارے نے حراست میں لے لیا ہے،گاڑی کا مالک گوجرانوالہ کا رہائشی تھا اور  جہاز سے کراچی جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

لاہور میں علامہ اقبال ایئرپورٹ پر حساس ادارے نے کاروائی کرتے ہوئے  گاڑی کے مالک کو  فلائٹ سے آف لوڈ کر کے تحویل میں لے لیا  اور اسے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ڈیوڈ پال چند برس قبل پاکستان منتقل ہوا تھا اور اس نے گوجرانوالہ میں رہائش اختیار کی تھی۔

گاڑی 11 سال قبل گوجرانوالہ سے چھینی گئی تھی اور  اسکا مقدمہ تھانہ کینٹ گوجرانوالہ میں درج ہے اور اسکے بعد جعلی کاغذات پر 6 بار فروخت ہوئی۔

دھماکے سے صرف دو دن قبل 23جون کو ڈیوڈ پال نے  اسے نامعلوم شخص کے ہاتھوں فروخت کیا،تفتیشی ذرائع کے مطابق نیا خریدار ہی مبینہ طور پر دہشتگرد ہے جبکہ دھماکے کی ایف آئی آر میں تین نامعلوم  دہشتگردوں کا  بھی ذکر ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button