عورت مارچ انتظامیہ کے خلاف درخواست دائر

پشاور کی عدالت کے بعدعورت مارچ انتظامیہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائرکردی گئی۔ نجی خبر رساں ادارے کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں عورت مارچ انتظامیہ کے خلاف ایک شہری کی جانب سے درخواست دائرکردی گئی ہے۔

درخواست میں پیمرا ، چیف سیکرٹریز اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کوفریق بنایا گیا ہے ۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ پیمرا اس بات کو یقینی بنائے کی عورت مارچ کوپرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کوئی کوریج نہ ملے اور عدالت عورت مارچ انتظامیہ کے خلاف اینٹی اسلامی حرکات ، فحش بینر اور گستاخانہ کلمات کے جرم میں کاروائی کرنے کا حکم دے۔

اس سے قبل پشاور کی ایک مقامی عدالت میں عورت مارچ منتظمین کیخلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف پیش کیا گیا تھا کہ عورت مارچ کے نام پر غیراسلامی حرکات کی گئیں لہذا اس مارچ پر پابندی عائد کی جائے۔

مقامی وکلاء کی جانب سے دائر درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عورت مارچ کے دوران غیر اسلامی حرکات کی گئیں ، فحش بینر لہرا ئے گئے اور گستاخانہ کلمات ادا کیے گئے جس سے متعدد افراد سمیت ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ۔

عدالت نے ان الزامات کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سیکشن 22 اے ک تحت پشاور کے تھانے ایسٹ کینٹ کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے ۔

عورت مارچ انتظامیہ

دوسری جانب عورت مارچ کی انتظامیہ نے پشاور سیشن کورٹ کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ایڈیٹڈ ویڈیوز اور تصاویر کی بنیاد پر یہ مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ لیاگیا ہے ان کی وضاحت ہم اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کر چکے ہیں اور وفاقی وزیر فواد چوہدری اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے مذہبی امور طاہر اشرفی سے بھی ان جھوٹے الزامات اور ایڈٹڈ ویڈیوز کے حوالے سے انکوائری کرنے اور ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بھی پشاور کی مقامی عدالت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ مزید عورت مارچ کی انتظامیہ نے وزیرِ اعظم اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہدوں کا استعمال کرتے ہوئے عورت مارچ اسلام آباد کے خلاف اس نفرت آمیز مہم کا خاتمہ کریں۔

Back to top button