عورت مارچ ، لینا غنی اور علی ظفر کا جھگڑا

احتساب عدالت کے جسٹس اظہر اقبال رانجھا نے علی ظفر کے میشاء شفیع کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے میں بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد سماجی کارکن اور میک اپ آرٹسٹ لینا غنی کا بیان 24 اپریل تک ملتوی کردیا گیا تھا۔

لیناغنی لاہور میں عورت مارچ سے وابستہ ہونے کے بعد دھمکیوں کا نشانہ بننے کے باوجود عدالت کے روبرو پیش ہوئی، غلط پوسٹروں کی ایک سیریز کے بعد یہ تحریک اس وقت عوام میں نفرت کا مرکز ہے ، ریلی میں مبینہ طور پر توہین آمیز تبصرے کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ۔

تاہم آج ہونے والی پیشی کے دوران کراس چیک میں لینا غنی سے عورت مارچ کے لیے ہونے والی فنڈنگز سے متعلق سوال کے جواب میں لینا غنی نے جواب دیا کہ چندہ لیا جاتا ہے اور اسکا کوئی آڈٹ بھی نہیں ہوتا ، اسکے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ عورت مارچ میں استعمال ہونے والے پلے کارڈز کے بارے میں آپکا کیا کہنا ہے تو ا نہوں نے جواب دیا کہ وہ صرف مارچ آرگنائز کرتی ہیں پلے کارڈز لوگ خود اپنے طور پر لے کر آتے ہیں،اس بارے میں انہیں روکا نہیں جاسکتا۔

اس موقع پر لینا غنی اور علی ظفر کی پرانی تصاویر بھی لینا غنی کو دکھائی گئیں جسکے بارے میں انہوں نے اقرار کیا کہ وہ اور علی ظفر پہلے دوست رہ چکے ہیں اور یہ انکے کالج کے دور کی تصاویر ہیں اور علی ظفر نے انکو ہراساں کیا اس بارے میں وہ اپنے موقف پر قائم ہیں لیکن انہیں افسوس ہے کہ انکے پاس اسکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

Back to top button