افغانستان کو ادویات کی شدید ضرورت

کراچی : طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان سے طبی کنسلٹنٹس کی ہجرت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ سرحدوں کی بندش اور بھارت کے ساتھ تجارت کی معطلی کی وجہ سے ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جو کے جنگ زدہ ملک میں صحت کے سنگین بحران کا باعث بن رہی ہے ۔

ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے مطابق افغانستان کے مختلف شہروں میں مریضوں کو مختلف اقسام کی ادویات کی اشد ضرورت ہے ، جو پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے دستیاب نہیں ہیں انہوں نے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ صحت کی سہولیات کو فعال رکھنے کے لیے فوری ادویات کا بندوبست کریں ۔

درجنوں مقامی اور غیر ملکی طبی مشیر ، جو کابل اور ملک کے دیگر صوبوں میں مختلف سرکاری اور نجی صحت کی سہولیات میں کام کر رہے تھے ، طالبان کے قبضے کے بعد امریکہ ، کینیڈا ، ترکی اور دیگر ممالک میں بھاگ گئے ہیں ۔ اب بھی جو لوگ ملک میں ہیں وہ انتہائی مایوس ہیں کیونکہ انہیں پچھلے کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں دی گئیں تھیں ، ڈاکٹر احمد ولید یوسف زئی ، کابل میں کام کرنے والے کنسلٹنٹ ہیماٹولوجسٹ ، نے یہ سب باتیں پاکستانی میڈیا کو فون پر بتائی ۔

ڈاکٹر احمد ولید

پاکستانی صحت کے حکام نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کے مطابق افغانستان میں صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد ولید نے کہا کہ کابل کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں کو بھی ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے ، خاص طور پر زندگی بچانے والی ادویات کیونکہ وہ حکومت کی تبدیلی کے بعد سے پاکستان اور بھارت سے ملک میں نہیں آرہی تھیں ۔

زندگی بچانے والی دوائیں ، خاص طور پر کیموتھراپی اور کینسر کے علاج کے لیے ، دستیاب نہیں ہیں ۔ اگر کسی کے پاس کوئی اسٹاک ہے تو وہ یہاں مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ لوگوں کے پاس ادویات خریدنے کے پیسے نہیں ہیں ، اس لیے مریض پریشانی میں ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سی دوسری ادویات بشمول تیسری نسل کی اینٹی بائیوٹکس ، میٹابولک ڈس آرڈرز کے علاج کے لیے ادویات ، اعصابی حالات ، دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی دستیاب نہیں ہیں ، انکا کہنا تھا کہ صحت کی بنیادی سہولیات ہی دستیاب نہیں ہیں ان حالات میں مریضوں کا علاج کیسے ممکن ہو سکے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button