افغانستان کی کمانڈ کیپ میکنزی کے حوالے

افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل اسکاٹ  ملر نے عہدہ چھوڑ دیا ہے۔نئے سربراہ جنرل کیپ میکنزی  فلوریڈا میں سنٹرل کمانڈ ہیڈ کواٹرز سے فوج کی کمانڈ کریں گے۔

کچھ دیر قبل ترجمان پینٹا گون  جان کربی نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی ہے  کہ افغانستان میں امریکی فوج کی کمانڈ اب جنرل میکنزی کریں گے اور جنرل ملر افغانستان سے واپس امریکہ روانہ ہوچکے ہیں۔

جان کربی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنرل میکنزی افغانستان میں موجود خطرات کو  دیکھیں گے۔

پریس کانفرنس میں  صحافیوں نے جان کربی سے سوال کیا کہ طالبان اب افغانستان میں پیش قدمی کر رہے ہیں اور کسی بھی وقت خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے تو اس صورتحال میں امریکہ افغانستان کی کیا مدد کر رہا ہے۔

سوال کے جواب میں جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت بھی افغانستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے،وہاں نئی کمانڈ تعینات کر دی گئی ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے مزید کہا کہ  افغانستان میں امریکہ کی موجودہ حکمت عملی سے متعلق تفصیلی معلومات انتہائی حساس ہیں جنہیں وہ منظر عام پر نہیں لاسکتے۔

میڈیا نمائندوں کے بار بار سوال کرنے پر کہ جب طالبان قابض ہوجائیں گے افغانستان پر،تو پھر امریکہ کیا کرے گا۔جواب میں جان کربی کا کہنا تھا کہ افغانوں کی ذمہ داری اب افغان فورسز کے پاس ہے،اس حوالے سے افغانستان کی جو  ایئر فورس ہے وہ کافی بہترین ایئر فورس ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ افغان ایئر فورس کی استعداد کو بڑھانے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔37 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر امریکہ کی جانب سے اُنھیں فراہم کیے جارہے ہیں۔

سُپر اسٹرائیک ایئر کرافٹ

جب کہ امریکہ افغانستان کو 3 سُپر اسٹرائیک ایئر کرافٹ بھی خرید کر دے رہا ہے۔جبکہ ایم آئی 70 ہیلی کاپٹرز کے پرزے بھی خرید کر دیے جارہے ہیں اُنھوں نے کہا کہ طالبان اگر پیش قدمی کر رہے ہیں  تو ان کے پاس کوئی ایسی ایئر فورس موجود نہیں ہے۔

تاہم اپنی زمینی فورس کی مدد  کے لیے افغانستان اپنی ایئر فورس ضرور استعمال کرسکتا ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ ترکی سے افغانستان کےسیکیورٹی معاملات پر بات چیت جاری ہےاورجو  افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک ہیں ،ان سے سہولیات حاصل کرنے کے بارے میں بھی بات چیت جاری ہے۔

یہ نہیں بتایا کہ پاکستان اس میں شامل ہے یا نہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ جو کلاسیفائڈ انفارمیشن ہے اس تک  طالبان کی رسائی ہو۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی کہاکہ وہ طالبان کے ذہن کے ارادے نہیں جانتے لیکن نظر یہی آرہا ہے کہ تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔طالبان انخلاء کے دوران کسی بھی وقت  خرابی پیدا کرسکتے ہیں۔

گو کہ طالبان پیش قدمی کر رہے ہیں لیکن افغانستان کا مسئلہ صرف سیاسی بات چیت سے ہی حل ہوسکتا ہے،امریکہ کی فوج نے وہاں سے انخلاء شروع کردیا ہے اور  امید ہے کہ 31 اگست تک امریکی فوج کا انخلاء مکمل ہوجائے گا۔

تاہم امریکہ افغانستان  سے انخلاء کے بعد بھی  کابل میں اپنی سفارتی موجودگی برقرار رکھے گا۔بگرام ایئر بیس خالی کرتے وقت بھی افغان فورسز سے رابطے میں تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button