افغان صدر غنی کا دورہ وائٹ ہاؤس

واشنگٹن : افغان رہنما اشرف غنی اور ملک کے امن عمل کے سربراہ جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر جو بائیڈن سے ملاقات کریں گے ، کیونکہ امریکی فوج کے انخلاء کی منصوبہ بندی میں تیزی آگئ ہے ۔

بائیڈن نے 11 ستمبر کو ہونے والے حملوں کی 20 ویں برسی تک افغانستان سے تمام امریکی افواج کے انخلا کا حکم دیا ہے ۔ امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لئے پیش قدمی کرتے ہوئے ، صدر نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ افغانستان میں اس سے زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔

ترجمان جین ساسکی نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ، کے صدر غنی اور ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ کا یہ دورہ امریکہ ، افغانستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار شراکت کو اجاگر کرے گا ۔

اب 11 ستمبر کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنے کے لئے امریکی فوج بھی دباؤ ڈال رہی ہے ، طالبان نے سرکاری افواج کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر لڑائیاں لڑی ہیں اور 40 اضلاع پر قبضہ کرنے کا دعوی بھی کیا ہے ۔

انتقامی کارروائی

مستقبل کے بارے میں بڑھتے ہوئے خوف اور بے یقینی نے بہت سارے افغانیوں کو ملک چھوڑنے کے لئے بھی مجبور کردیا ہے ، کیونکہ ان میں ہزاروں مرد و خواتین وہ بھی شامل ہیں جو طالبان کی انتقامی کارروائیوں سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہوں نے غیر ملکی افواج کے ساتھ مل کر کام کیا ۔

اتوار کو طالبان نے کہا ہے کہ وہ امن مذاکرات کے لئے پرعزم ہیں لیکن انہوں نے اصرار کیا ہے کہ افغانستان میں "حقیقی اسلامی نظام” ہی جنگ کے خاتمے اور لوگوں کے حقوق کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے – جس میں خواتین کے حقوق بھی شامل ہیں ۔

طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کئی مہینوں سے تعطل کا شکار ہیں اور مئی کے مہینے سے ہی جب امریکی فوج نے اپنے حتمی انخلاء کا آغاز کیا تھا تو ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button