افغان امن عمل کانفرنس

افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان نے خصوصی کانفرنس کی میزبانی کا اعلان کردیا۔وزیر اعظم عمران خان نے سابق افغان وزیر اعظم حامد کرزئی کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے سابق افغان وزیر اعظم حامد کرزئی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اورانہیں پاکستان کی جانب سے بلائی گئی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

تاہم افغان صدارتی محل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کانفرنس منسوخ ہوگئی ہے۔ اُدھر امریکہ نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری  نے اپنے ٹوئٹ میں کانفرنس کو افغانستان میں قیام امن  اور افغانستان کے مسائل کے حل کی جانب اہم پیش قدمی قرار دیا ہے۔

بین المذاہب مذاکرات

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستان کی بلائی گئی کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب چین نے بھی افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی پیش کش کی ہے۔ چین کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ بین المذاہب مذاکرات کو آسان بنانے اور افغان مسئلے  کے سیاسی حل میں شراکت کے لیے تیار ہیں۔

اُدھر طالبان نے قیدیوں کی رہائی کے بدلے جنگ بندی کی پیش کش کر دی ہے۔امن مذاکرات میں شامل  افغان حکومتی عہدے دار نادر نادری کے مطابق طالبان نے افغانستان کی جیلوں میں قید 7000 قیدیوں کی رہائی اور اقوام متحدہ میں قائدین کے نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے بدلے 3 ماہ تک جنگ بندی کی پیش کش کی ہے۔

نادر  نادری کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا مطالبہ ہے اس سے پہلے 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی سے بھی  کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔

چمن میں پاک افغان بارڈر سے متصل اہم ضلع اسپن بولدک پر  طالبان کے قبضے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے باعث بارڈر دوسرے روز بھی ہر قسم کی تجارت اور پیدل آمدورفت کے لیے بند ہے۔

افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ طالبان کے سامنے سرنڈر کرنے اور پاکستان بھاگنے کی کوشش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ افغانستان کی وزارت دفاع کے مطابق 24 گھنٹوں میں93 طالبان ہلاک اور 74 زخمی ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button