پنجاب اور سندھ کے آبی تنازع میں نیا موڑ

پیر کے روز سندھ حکومت کے مشیر نثار کھوڑو نے پانی کے مسئلے پر 3 جون سے سندھ بھر میں احتجاج کی کال دی تھی جس کے بعد   گزشتہ روز واٹر ریگولیٹر ی نے ملک کے دو سب سے بڑے صوبوں کے پانی کے حصوں کو بالترتیب 106،000 کیوسک اور 115،000 کیوسک تک بڑھا دیا ہے۔

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کو بھی وزارت آبی وسائل کی ہدایت کے مطابق پنجاب اور سندھ کے نو اہم مقامات پر واٹر انسپکٹرز (تکنیکی عہدیداروں )کی تقرری کے لئے کہا ہے۔

ارسا کے ترجمان کے مطابق ارسا کے عہدیداروں نے میٹ آفس میں ایک میٹنگ کی جس میں میٹ آفس کے ڈائریکٹر جنرل نے انہیں شمالی علاقوں میں (جہاں سے زیادہ تر دریا نکلتے ہیں) موسم کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی ۔

زیادہ پانی کی وجوہات

انہوں نے کہا کہ”اجلاس کے دوران یہ بات واضح کی گئی کہ شمالی علاقوں اور سکردو میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ ہونے کی وجہ سے برف پگھلنے  کا عمل تیز ہوگیا ہے  جسکے باعث دریاؤں میں 23،500 کیوسک پانی کے اضافے کے ساتھ دریاؤں میں پانی  کی آمد 229،100 کیوسک سے بڑھ کر 252،600 کیوسک ہوگئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ تربیلا سے پانی کا اخراج 90،000 کیوسک سے بڑھ کر 100،000 کیوسک ہوگیا ہے اور رتر بیلا میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے  5 فٹ بلند ہوگئی ہے جبکہ چشمہ بیراج میں پانی کا بہاؤ 100،000 کیوسک سے بڑھ کر 110،000 کیوسک ہوگیاہے۔

 [بڑھتے ہوئے پانی کے بہاؤ کے پیش نظر] پنجاب کا حصہ 101،000 کیوسک سے بڑھا کر 106،000 کیوسک جبکہ سندھ کا حصہ 109،000 کیوسک سے بڑھا کر 115،000 کیوسک کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میٹ آفس کے عہدیداروں نے ارسا کو بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت اگلے 7سے10 دن تک مستحکم رہے گا اور اس دوران بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

ایک روز قبل  ارسا نے دونوں صوبوں کے پانی کے حصے میں کٹوتی کے اپنے پہلے فیصلے کو بدل دیا تھا اور حکومت  سندھ کے ایک شدید احتجاج کے بعد پنجاب کا حصہ 83،000 کیوسک سے بڑھا کر 101،000 اور سندھ کا حصہ 74،000 کیوسک سے بڑھا کر 109،000 کیوسک کردیا گیا تھا ،سندھ نے الزام لگایا تھا کہ 1991 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

پیر کے روز دونوں صوبوں میں پانی کی قلت کی سطح 32٪ سے کم ہوکر 18٪ ہوگئی جبکہ منگل کو ان کے حصوں  میں مزید اضافہ کے ساتھ  اس قلت کو مزید کم کرکے 13٪ کردیا گیا۔

نئے انسپکٹروں کی بھرتی

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کو نو اہم مقامات پر انسپکٹروں کی تقرری کی درخواست بھی کی۔

ٹیکنیکل عہدیدار ،انسپکٹر کی حیثیت سے کام کریں گے اور ندیوں میں بہتر انفلوژن کی وجہ سے پنجاب اور سندھ کے پانی کے حصوںمیں مزید اضافے کے بعد پانی کے بہاؤ کی نگرانی کریں گے۔

چیئرمین ارسا ،راؤارشاد  علی نے پیر کو واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) مزمل حسین کو خط لکھ کر  9 اہم بیراجز پر نگرانی کے لئے واٹرانسپکٹروں کی  فوری تقرری کے لئے ہدایت کی۔

پنجاب کے جن اہم چھ مقامات پر انسپکٹروں کی تقرری کی جارہی ہے ان میں تونسہ ہیڈ وے ، رسول ہیڈ وے ، مارالہ ہیڈ وے ، ٹرمو ہیڈ وے ، چشمہ بیراج اور پنج ند ہیڈ وے شامل ہیں جبکہ سندھ میں انسپکٹر گڈو ، سکھر اور کوٹری بیراجوں میں پانی کے اخراج پر نظر رکھیں گے۔

ستائیس مئی 2021 کو وزارت آبی وسائل نے ارسا چیئرمین کو ایک خط لکھا جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ فوری طور پر سندھ آبپاشی کے اہم مقامات پر واٹر انسپکٹروں کی تعیناتی کریں تاکہ ایک ہفتے کے اندر اندرغلط تاثر کو ختم کیا جاسکے”۔

حکومت سندھ نے پیر کے روز 3 جون سے 15 جون تک پانی کی قلت اور اس کے نتیجے میں ضلعی سطح پر بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے سندھ کے رہنما نثار کھوڑو نے سندھ اسمبلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر ارسا نے ہمارے احتجاج کا نوٹس نہیں لیا تو ہم کامو شہید  تک دھرنا دیں گے(کامو شہید سندھ کا آخری شہر ہے جو تھر نہر اور سحر نہر کے درمیان واقع ہے)۔

سندھ کی شکایات

دوسری جانب سندھ کے وزیر آبپاشی سہیل انور سیال نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے سندھ کے اراکین اسمبلی اور آبپاشی کے ماہرین کو پنجاب میں بیراجوں کے دورے کی دعوت  کومسترد کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو ارسا کے خلاف شکایات ہیں پنجاب  کے خلاف نہیں۔

تاہم اسی وقت  صوبائی وزیر نے سی ایم بزدار سے یہ بھی سوال کردیا کہ  چشمہ جہلم لنک کینال اور ٹی پی لنک کینال میں پانی کیوں چھوڑا گیا ۔ انور سیال نے یہ بھی  الزام لگایا کہ پنجاب میں لنک نہریں غیر قانونی طور پر کھولی گئیں ، جس سے سندھ کو 3 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ "سندھ کو 33 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی ملنا تھا لیکن اسے صرف 33.89 ایم اے ایف ملا ہے ۔”  سندھ کے وزیر آبپاشی انور سیال  نے پنجاب کے ماہرین کو بھی سندھ آنے کی دعوت دےڈالی۔

بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی پیمائش اور اس قیمتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لئے  جدیدٹیلی میٹری سسٹم لگانے کے لئے متعلقہ اتھارٹی کو حکم  دےدیا ہے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ "یہ [ٹیلی میٹری] نظام ہر صوبے کو ملنے والے پانی کی مقدار کی پیمائش اور نقصانات کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button