ٹی ایل پی اور حکومت میں مذاکرات کا نیا دور

اسلام آباد : پاکستان وزارت داخلہ میں حکومت اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جاری ہے ۔

تازہ ترین اطلاع میں ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا ہے مذاکرات وزارت داخلہ کے زیر اہتمام ہو رہے ہیں جس میں سربراہ تحریک لبیک سعد رضوی اور مفتی عمیر الازہری بھی شریک ہوئے ہیں ۔

جماعت ٹی ایل پی کے ترجمان کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والے وفد میں علامہ غلام عباس فیضی بھی شامل ہیں ۔

اس کالعدم تنظیم کے ترجمان کا مزید یہ کہنا ہے کے تحریک لبیک پاکستان اپنے مطالبات پر ہمیشہ سے قائم ہے ، مذاکرات میں اپنے وہی مطالبات دوبارہ پیش کریں گے، ہمارا پہلے دن سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کر دیا جائے ۔

اس بات کا بھی خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ عسکریت پسند تنظیم کے طور پر نمٹنے کا فیصلہ کر لیا ہوا ہے ۔

اس کے علاوہ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹی ایل پی کے غیرملکی فنڈنگ لینے کے شواہد بھی ہمارے پاس موجود ہیں ۔

جبکہ دوسری جانب ترجمان کالعدم ٹی ایل پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے تصویر کا عوام کو ایک رخ نہ دکھایا جائے ، ہمارا پہلے دن سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے، باقی مطالبات حکومتی تصادم کے باعث بعد میں سامنے رکھے گئے ہیں ۔

تنظیم کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ وزیر داخلہ مذاکرات سامنے لائیں اور ہمارا مؤقف بھی میڈیا پر سامنے رکھا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button