ایک کورونا اور اسکی متعدد اقسام

مہلک کورونا وائرس کے مثبت آنے کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز 10 فیصد سے زائد ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

جبکہ اسلام آباد میں 5 اعشاریہ 2 فیصد  شرح رہی اور ملک بھر کی مجموعی شرح  2 اعشاریہ 2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے اور 24 گھنٹوں میں  25 افراد  کورونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے ہیں ۔

وزارت صحت پاکستان نے خبردار کردیا ہے کہ پاکستان میں کوروناکابھارتی ،برطانوی اور جنوبی افریقن ویرینٹ  موجود ہے۔

ترجمان وزارت صحت کے مطابق  مئی کے آخر اور جون کے پہلے  15 دنوں میں لیے گئے مریضوں کے سیمپلز میں ان تینوں اقسام کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔

کانٹیکٹ ٹریسنگ کے لیے این آئی ایچ کی سرویلنس ڈویژن سے  ان  سیمپلزکا ڈیٹا  شیئر کردیا گیا ہے،سرویلینس ڈویژن کانٹیکٹ ٹریسنگ  کے ذریعے ان اقسام کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کاروائی کرے گا۔

پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں  لگائی جانے والی ویکسینز برطانوی ،جنوبی افریقی اور برازیلین  ویرینٹ کے خلاف تو کافی حد تک موثر ہے لیکن  یہ ویکسینز بھارتی قسم کے کورونا کے خلاف زیادہ مدافعتی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا  کہ اب تک پاکستان میں کورونا کے بھارتی ویرینٹ کے 6 کیسز کی تشخیص ہوچکی ہے اور یہ دوسرے ویرینٹس کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے اور زیادہ خطرناک بھی ہے۔ لہذا اس سے محفوظ رہنے کا واحد حل ایس ا و پیز  پر سختی سے  عمل پیرا ہونا ہے  اور ماسک لگا کر اور سماجی فاصلہ اور صفائی  کا خیال رکھ کر ہی اس کی تباہی سے بچا جاسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button