یقینی طور پاکستانی گیس کے بحران کیلیے تیار ہیں

تازہ ترین اسلام آباد : اس ماہ نومبر 19 کے بعد پاکستان میں گیس کا بڑا بحران یقینی ہوگیا ہے ، گنور اور ای این آئی دو ایل این جی کارگوز کی فراہمی سے پیچھے ہٹ گئیں ہیں جسکی سیکرٹری پیٹرولیم کی جانب سے تصدیق کردی گئی ہے ۔

مزید تفصیلات کے مطابق ایک حیران کن پیشرفت میں دو ایل این جی تجارتی کمپنیوں گنور اور ای این آئی نومبر 2021 کے رواں مہینے کیلئے بین الاقوامی اسپاٹ مارکیٹ میں 200 فیصد تک بڑے مالیاتی منافع کیلئے پاکستان کو دو ایل این جی کارگوز فراہم کرنے کے اپنے وعدے سے جان بوجھ کر پیچھے ہٹ گئی ہیں ۔

جو معاہدہ ہوا تھا اس کے تحت ڈیفالٹ کی صورت میں پی ایل ایل ہر ایل این جی کمپنی کو ایک کارگو کی معاہدے کی قیمت کا 30 فیصد جرمانہ عائد کر سکتی ہے اور دونوں کمپنیاں جرمانہ ادا کرنے کے لیے تیار بھی ہیں ۔

ان کے لیے اسپاٹ مارکیٹ میں منافع بہت زیادہ ہے جس نے انہیں پاکستان کا ٹرم کارگو بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرنے پر اکسایا ہے ۔

جبکہ اس بارے میں رابطہ کرنے پر سیکرٹری پیٹرولیم ڈاکٹر ارشد محمود نے اس پیشرفت کی یہ کہتے ہوئے تصدیق کردی ہے ۔

اور کہا ہے کہ ہمارے وزیر اس صورتحال کا جائزہ لینے اور پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کے حکام کے ساتھ مشاورت سے آگے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے آج صبح ایک اجلاس کی صدارت کریں گے ۔

مگر تاہم پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹر سے بار بار رابطہ بھی کیا گیا ہے لیکن انہوں نے نہ تو فون اٹھایا ہے اور نہ ہی اس سوال کا جواب دیا ہے ۔

سوال وہی ہے کے جس میں دو ایل این جی ٹریڈنگ کمپنیوں کی جانب سے ڈیفالٹ کی پیشرفت کی تصدیق کا پوچھا گیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button